سید اصغر حسین کا یومِ پیدائش
16 Feb 1927
گورکھپور, اتر پردیش
(پیدائش: 16 فروری 1927 – وفات: 30 اکتوبر 1981)
منتخب کلام
…
ہم دشت سے ہر شام یہی سوچ کے گھر آئے
شاید کہ کسی شب ترے آنے کی خبر آئے
معلوم کسے شہر طلسمات کا رستہ
کچھ دور مرے ساتھ تو مہتاب سفر آئے
اس پھول سے چہرے کی طلب راحت جاں ہے
پھینکے کوئی پتھر بھی تو احساں مرے سر آئے
تا پھر نہ مجھے تیرہ نصیبی کا گلا ہو
یہ صبح کا سورج مری آنکھوں میں اتر آئے
اب آگے علم اور کوئی ہاتھوں سے لے لے
ہم شب کے مسافر تھے چلے تا بہ سحر آئے
…
آنکھوں کی ندی سوکھ گئی پھر بھی ہرا ہے
وہ درد کا پودا جو مرے دل میں اگا ہے
جاں دے کے بھی چاہوں تو اسے پا نہ سکوں میں
وہ چاند کا ٹکڑا جو دریچے میں جڑا ہے
سیلاب ہیں چہروں کے تو آواز کے دریا
یہ شہر تمنا تو نہیں دشت صدا ہے
اصغرؔ یہ سفر شوق کا اب کیسے کٹے گا
…
اک عمر مہ و سال کی ٹھوکر میں رہا ہوں
میں سنگ سہی پھر بھی سر راہ وفا ہوں
آپ اپنے ہی ناکردہ گناہوں کی سزا ہوں
آواز ہوں لیکن ترے ہونٹوں سے جدا ہوں
کیا کم ہے کہ رسوائے جہاں ہوں تری خاطر
میں داغ ہوں لیکن ترے ماتھے پہ سجا ہوں
پانی میں نظر آتی ہے اک چاند سی صورت
پیاسا ہوں مگر دیر سے دریا پہ کھڑا ہوں
اک تو ہی نہیں اور بھی خوبان جہاں ہیں
تجھ کو نہیں پایا ہے تو اوروں سے ملا ہوں
سب دیس مرے دیس ہیں سب لوگ مرے لوگ
کیا جانیے میں کون سی مٹی کا بنا ہوں
جو ہم نے تراشا تھا وہ بت ٹوٹ گیا ہے
…………………
