سِلسِلے توڑ گیا وہ سبھی جاتے جاتے
ورنہ اِتنے تو مراسم تھے کہ آتے جاتے
شِکوہء ظُلمتِ شب سے تو کہیں بہتر تھا
اپنے حِصّے کی کوئی شمع جلاتے جاتے
کِتنا آساں تھا تِرے ہِجر میں مرنا جاناں
پِھر بھی اِک عُمر لگی جان سے جاتے جاتے
جشنِ مقتل ہی نہ برپا ھُوا ورنہ ہم بھی
پابَجَولاں ہی سہی ناچتے گاتے جاتے
اُس کی وہ جانے اُسے پاسِ وفا تھا کہ نہ تھا
تُم فرازؔ اپنی طرف سے تو نِبھاتے جاتے۔

جواب دیں
تبصرہ کرنے سے پہلے آپ کا لاگ ان ہونا ضروری ہے۔