سوچ کر بھی کیا جانا؟ جان کر بھی کیا پایا؟
جب بھی آئینہ دیکھا، خود کو دوسرا پایا
بول تھے دِوانوں کے، جن سے ہوش والوں نے
سوچ کے دھندلکوں میں اپنا راستا پایا
اہتمام دستک کا اپنی وضع تھی، ورنہ
ہم نے در رسائی کا بارہا کُھلا پایا
فلسفوں کے دھاگوں سے کھینچ کر سرا دل کا
وہم سے حقیقت تک ہم نے سلسلہ پایا
عمر یا زمانے کا کھیل ہے بہانے کا
سب نے ماجرا دیکھا، کس نے مدّعا پایا؟
شاعری طلب اپنی ، شاعری عطا اُن کی
حوصلے سے کم مانگا، ظرف سے سِوا پایا
(عبدالاحد سازؔ)
المرسل :-: ابوالحسن علی ندوی
جواب دیں
تبصرہ کرنے سے پہلے آپ کا لاگ ان ہونا ضروری ہے۔