سوچا نہیں اچھا برا دیکھا سنا کچھ بھی نہیں
مانگا خدا سے رات دن تیرے سوا کچھ بھی نہیں
سوچا تجھے، دیکھا تجھے، چاہا تجھے، پوجا تجھے
میری خطا میری وفا، تیری خطا کچھ بھی نہیں
جس پر ہماری آنکھ نے موتی بچھائے رات بھر
بھیجا وہی کاغذ اسے، ہم نے لکھا کچھ بھی نہیں
اک شام کے ساۓ تلے بیٹھے رہے وہ دیر تک
آنکھوں سے کیں باتیں بہت، منہ سے کہا کچھ بھی نہیں
احساس کی خوشبو کہاں ، آواز کے جگنو کہاں
خاموش یادوں کے سوا گھر میں رہا کچھ بھی نہیں
دو چار دن کی بات ہے دل خاک میں سو جائے گا
جب آگ پر کاغذ رکھا باقی بچا کچھ بھی نہیں
بشیر بدر

جواب دیں
تبصرہ کرنے سے پہلے آپ کا لاگ ان ہونا ضروری ہے۔