پیر • 5 اکتوبر 2026ء

✦ منتخب غزلیں

سوز غم سے جگر جل رہا ہے مگر مرا درد نہاں آشکارا نہ…

سوز غم سے جگر جل رہا ہے مگر مرا درد نہاں آشکارا نہیں
گھٹ کے مرنا گوارا ہے اے چارہ گر راز الفت عیاں ہو گوارا نہیں

شمع جلتی رہی رات ڈھلتی رہی نبض بیمار رک رک کے چلتی رہی
آ کے دم بھر کے مہماں کو اب دیکھ لو اس کے بچنے کا کوئی سہارا نہیں

بچ کے طوفاں کی زد سے کہاں جائے گا اب کہاں تک تلاطم سے ٹکرائے گا
اس سفینہ کو اب ڈوب جانے بھی دو جس کی قسمت میں کوئی کنارا نہیں

ہے چمن تو وہی وہ نشیمن کہاں چند تنکوں کی خاطر چلیں آندھیاں
اب وہ جھونکے نہیں اب وہ طوفان نہیں اب وہ شعلے نہیں وہ شرارا نہیں

… More