سلطان نورالدین زنگیؒ جب دمشق میں اپنا مشہور زمانہ شفاخانہ (Hospital) بنانے لگے تو جراثیم سے پاک آب و ہوا والا خطہ دیکھنے کے لیے ایک بھیڑ کو ذبح کیا گیا اور اس کے چار ٹکڑوں کو چار مختلف مقامات پر لٹکا دیا گیا، دوسرے دن دیکھا گیا کہ کس جگہ کے گوشت میں تازگی باقی ہے، (غالبا یہ کام کئی دن تک جاری رکھا گیا) اور پھر اس جگہ کو ہاسپٹل کے قیام کے لیے چن لیا گیا جہاں پر گوشت کی تازگی باقی رہی۔
اس سے 200 سال پہلے جراثیم سے پاک آب و ہوا کے لیے یہی طریقہ بغداد میں عظیم مسلم سائنسدان "حکیم ابوبکر محمد بن زکریا الرازی ؒ ” نے بھی استعمال کیا تھا۔
مشہور مؤرخ الظاہری نے 1428 میں یہ ہاسپٹل دیکھا، وہ بیان کرتا ہے کہ:
”میرے ساتھ ایک ایرانی زائر بھی تھا، اس نے جب دیکھا کہ اس ہاسپٹل میں بہت آرام ملتا ہے تو وہ خود بیمار بن گیا، تاکہ ہاسپٹل میں داخل ہوسکے، ہاسپٹل کے معالج اعلیٰ نے اس کی نبض چیک کی اور پوری طرح معائنہ کیا، واضح ہوگیا کہ اسے کوئی بیماری نہیں ہے، تاہم اسے چوزوں کا سوپ، خوشبودار شربت، عمدہ پھل اور دوسری نفیس چیزیں تجویز کردیں، تیسرے دن ایک نیا نسخہ لکھا، جس میں درج تھا: "مہمان نوازی صرف تین دن کی ہوتی ہے۔” 😅
منتخب
Source