سعدیہ بشیر سالگرہ مبارک
April 01, 19xx
وہ کمندیں ڈالتا پھرتا ہے مہر و ماہ پر
کوئی جیسے خاک ہو کے رہ گیا اس راہ پر
صبر سے جو تھام کر رکّھی ہے اپنے ہاتھ میں
آنسوؤں کے کتنے دریا وار دوں اس آہ پر
اپنے دل کی سلطنت کے راز کھولوں گی کبھی
کتنے استعفے لکھے ہیں ناگہانی چاہ پر
خود شناسی اک طرف ،یاں حق شناسی بھی گئی
کچھ سے کچھ ہونے لگا ہے چٹکی بھر افواہ پر
خواب بھی بوسیدگی لے کر گداگر بن گئے
اور فتوے دے رہے ہیں اب دل گم راہ پر
درد مندی کا ہنر بھی جس کے ہاتھوں میں نہیں
ہم نے دل کو وار ڈالا ہے اسی درگاہ پر
درد کے سب پیرہن بھی اب سراپا درد ہیں
اک کہانی چیختی ہے فکر و فن کی راہ پر

جواب دیں
تبصرہ کرنے سے پہلے آپ کا لاگ ان ہونا ضروری ہے۔