پیر • 5 اکتوبر 2026ء

✦ منتخب غزلیں

ساغر نہیں کہ جھوم کے اٹھے اٹھا لیا یہ زندگی کا بو…


ساغر نہیں کہ جھوم کے اٹھے اٹھا لیا
یہ زندگی کا بوجھ ہے مل کر اٹھائیے
…
ہوشؔ جونپوری کا یومِ ولادت
20؍جولائی 1940
نام اصغر مہدی اور تخلص ہوشؔ تھا۔20؍جولائی 1940ء کو محلہ پرانی بازار ضلع جونپور میں پیدا ہوئے۔
ہوشؔ جونپوری 05؍دسمبر 2003ء کو اس دارِ فانی سے کوچ کر گئے۔
منتخب اشعار
دیوار ان کے گھر کی مری دھوپ لے گئی
یہ بات بھولنے میں زمانہ لگا مجھے
———
ٹوٹ کر روح میں شیشوں کی طرح چبھتے ہیں
پھر بھی ہر آدمی خوابوں کا تمنائی ہے
———
ڈوبنے والے کو ساحل سے صدائیں مت دو
وہ تو ڈوبے گا مگر ڈوبنا مشکل ہوگا
———
ذکر اسلاف سے بہتر ہے کہ خاموش رہیں
کل نئی نسل میں ہم لوگ بھی بوڑھے ہوں گے
———
میرے ہی پاؤں مرے سب سے بڑے دشمن ہیں
جب بھی اٹھتے ہیں اسی در کی طرف جاتے ہیں
———
ہم بھی کرتے رہیں تقاضا روز
تم بھی کہتے رہو کہ آج نہیں
———
جو سائے بچھاتے ہیں پھل پھول لٹاتے ہیں
اب ایسے درختوں کو انسان کہا جائے
———
کیا ستم کرتے ہیں مٹی کے کھلونے والے
رام کو رکھے ہوئے بیٹھے ہیں راون کے قریب
———
جو حادثہ کہ میرے لیے دردناک تھا
وہ دوسروں سے سن کے فسانہ لگا مجھے
———
آدمی پہلے بھی ننگا تھا مگر جسم تلک
آج تو روح کو بھی ہم نے برہنہ پایا
———
مٹی میں کتنے پھول پڑے سوکھتے رہے
رنگین پتھروں سے بہلتا رہا ہوں میں
———
ساغر نہیں کہ جھوم کے اٹھے اٹھا لیا
یہ زندگی کا بوجھ ہے مل کر اٹھائیے
———
کھو گئی جا کے نظر یوں رخ روشن کے قریب
جیسے کھو جاتی ہے بیوہ کوئی دلہن کے قریب
———
بچے کھلی فضا میں کہاں تک نکل گئے
ہم لوگ اب بھی قید اسی بام و در میں ہیں
———
جانے کس کس کا گلا کٹتا پس پردۂ عشق
کھل گئے میری شہادت میں ستم گر کتنے
———
گر بھی جاتی نہیں کم بخت کہ فرصت ہو جائے
کوندتی رہتی ہے بجلی مرے خرمن کے قریب
———
آنے والے دور میں جو پائے گا پیغمبری
میرا چہرہ میرا دل میری زباں لے جائے گا
…………….