ساغرؔ نظامی سُنا ہےیہ جب سے کہ وہ آ رہے ہیں دل و…
ساغرؔ نظامی
سُنا ہےیہ جب سے کہ وہ آ رہے ہیں
دل و جاں دیوانے ہوئے جا رہے ہیں
معطّر ، معطّر، خراماں، خراماں
نسیم آرہی ہے کہ وہ آ رہے ہیں
نگاہیں گلابی، ادائیں شرابی
بہکتے مچلتے چلے آ رہے ہیں
فلک بن گیا میرا دوشِ تخیّل
سہارا لئے وہ چلے آ رہے ہیں
نظر ان کے جلوؤں کے طوفاں میں گم ہے
ہجومِ نظر سے وہ گھبرا رہے ہیں
انہیں بڑ ھ کے کیا نذر دیں ہم الٰہی!
متاعِ دل و جاں پہ شرما رہے ہیں
کبھی لعل و گوہر، کبھی لالہ و گل
ابھی ہنس رہے تھے ابھی گا رہے ہیں
کرم کی یہ مجبوریاں، اللہ اللہ،
نظر سے دلاسے دیئے جارہے ہیں
مری روح میں چھپ کے ہر وقت ساغرؔ
وہ اک نغمۂ جاوداں گا رہے ہیں