پیر • 5 اکتوبر 2026ء

✦ منتخب غزلیں

ساز و آواز خد و خال میں آ جاتے ہیں ! سانس لیتا ہوں…


ساز و آواز خد و خال میں آ جاتے ہیں !
سانس لیتا ہوں تو سُر تال میں آ جاتے ہیں

اب ضرورت نہيں پڑتی ہے کسی داو کی بھی
لوگ خود چل کے مری چال میں آ جاتے ہیں

رات اُٹھتی ہے الاو سے تری خوش بُو اور !
ہم مہَکتے ہوئے۔۔۔۔ چوپال میں آ جاتے ہیں

عشق آسائش ِ دُنیا بھی ہے’ آزار بھی ہے
لوگ آسانی سے جنجال میں آ جاتے ہیں

شام ڈھلتے ہی کسی گوشہ ِ ویرانی میں
ہم پرندوں کی طرح جال میں آ جاتے ہیں

زندگی خواب ہے اور خواب کی قیمت لئے
٭ "جن کو آنا ہو، وہ ہر حال میں آ جاتے ہیں ”

جن پرندوں کو درختوں کی دعا ہو ‘ عــامــیؔ !
وقت سے پہلے پر و بال میں آ جاتے ہیں

٭ مصرع مستفاد از نظمِ احمد ندیم قاسمی

( عــمران عــامــیؔ )