ساز و آواز خد و خال میں آ جاتے ہیں ! سانس لیتا ہوں…
ساز و آواز خد و خال میں آ جاتے ہیں !
سانس لیتا ہوں تو سُر تال میں آ جاتے ہیں
اب ضرورت نہيں پڑتی ہے کسی داو کی بھی
لوگ خود چل کے مری چال میں آ جاتے ہیں
رات اُٹھتی ہے الاو سے تری خوش بُو اور !
ہم مہَکتے ہوئے۔۔۔۔ چوپال میں آ جاتے ہیں
عشق آسائش ِ دُنیا بھی ہے’ آزار بھی ہے
لوگ آسانی سے جنجال میں آ جاتے ہیں
شام ڈھلتے ہی کسی گوشہ ِ ویرانی میں
ہم پرندوں کی طرح جال میں آ جاتے ہیں
زندگی خواب ہے اور خواب کی قیمت لئے
٭ "جن کو آنا ہو، وہ ہر حال میں آ جاتے ہیں ”
جن پرندوں کو درختوں کی دعا ہو ‘ عــامــیؔ !
وقت سے پہلے پر و بال میں آ جاتے ہیں
٭ مصرع مستفاد از نظمِ احمد ندیم قاسمی
( عــمران عــامــیؔ )