منگل • 6 اکتوبر 2026ء

✦ منتخب غزلیں

سارے خاکے اس کے خاکے سارا منظر اس کا ہے اپنا مقدر …


سارے خاکے اس کے خاکے سارا منظر اس کا ہے
اپنا مقدر قطرۂ شبنم اور سمندر اس کا ہے

گرم ہوائیں دھوپ بگولے دشت یہ صحرا میرے ہیں
کرنیں جگنو شبنم خوشبو سرو صنوبر اس کا ہے

دیکھو وہ تاریخ کھڑی ہے ایک سنہرا باب لئے
جو مقتل میں پہلے پہنچا آج مقدر اس کا ہے

جس کو میں نے پھول دئیے اور پھولوں کی مہکاریں دیں
میری جانب آنے والا پہلا پتھر اس کا ہے

کاہکشاں کی ساری جہتیں چاند کا آنگن دیکھ لیا
ایسی تو ہیں اس کی گلیاں ایسا تو گھر اس کا ہے

میں کیا جانوں قہر و غضب پاداش عمل کی بات وفاؔ
اپنی ہیں زیتون کی شاخیں عرصۂ محشر اس کا ہے

(وفا حجازی)

انتخاب :-: ابوالحسن علی ندوی