*رہ گزر*
پھر وہی بڑھتے ہوئے رکتے ہوئے قدموں کی چاپ
پھر وہی سہمی ہوئی سمٹی ہوئی سرگوشیاں
پھر وہی بہکی ہوئی مہکی ہوئی سی آہٹیں
پھر وہی گاتی سی لہراتی سی کچھ مدہوشیاں
زندگی طوفان تھی سیلاب تھی بھونچال تھی
وقت پھر بھی کروٹوں پر کروٹیں لیتا رہا
قافلے اس راہ پر آتے رہے جاتے رہے
راہ بر سب کو مسافت کا صلہ دیتا رہا
… More
جواب دیں
تبصرہ کرنے سے پہلے آپ کا لاگ ان ہونا ضروری ہے۔