روح میں غم کے تلاطم سے نمی بنتی ہے
خواب ٹوٹیں تو یہ اشکوں کی لڑی بنتی ہے
کیمرہ وقت کی رفتار دکھاتا ہے مجھے
اب مری عمر سے تصویر بڑی بنتی ہے
یہ الگ بات کہ تو ہجر کو آزار نہ مان
غم کی تشریح وگرنہ تو یہی بنتی ہے
اب تو پوروں میں ترے نقش اتر آتے ہیں
اپنی تصویر بناؤں تو تری بنتی ہے
ساعت ِ ہجر سے جب ہو کے گزرتا ہے وجود
تب کہیں جا کے فقط ایک گھڑی بنتی ہے
اب تو بھیگی ہوئی آنکھوں میں ترے چہرے کی
کبھی بنتی نہیں تصویر کبھی بنتی ہے
میرے اظہار ِ تمنا پہ تبسم کیسا
کیا مری بات پہ اے دوست ہنسی بنتی ہے
وہ اگر دور ہو تو پھر یہی خلوت جاناں
خطہ ِ چشم میں ساون کی جھڑی بنتی ہے
(جاناں ملک)
جواب دیں
تبصرہ کرنے سے پہلے آپ کا لاگ ان ہونا ضروری ہے۔