روحیؔ کنجاہی کا یومِ وفات نام امر الٰہی اور ت…
روحیؔ کنجاہی کا یومِ وفات
نام امر الٰہی اور تخلص روحیؔ ہے۔ ۴؍اگست۱۹۳۶ء کو کنجاہ، ضلع گجرات(پنجاب) میں پیدا ہوئے۔
روحیؔ کنجاہی 07؍فروری 2022ء کو لاہور میں وفات پا گئے،
——
منتخب کلام
——
معجزہ کوئی دکھاؤں بھی تو کیا
چاند میں شہر بساؤں بھی تو کیا
—-
کس لیے پھرتا ہوں تنہا نہ کسی نے پوچھا
کیوں کہیں جی نہیں لگتا نہ کسی نے پوچھا
—-
صورتِ نغمۂ جاں اے روحیؔ
میں ترے دل میں اترنا چاہوں
—-
منصفِ وقت سے بیگانہ گزرنا ہوگا
فیصلہ اپنا ہمیں آپ ہی کرنا ہوگا
—-
میرے لیے وہ شخص مصیبت بھی بہت ہے
سچ یہ بھی ہے اس کی مجھے عادت بھی بہت ہے
—-
تو مل بھی جائے تو پھر بھی تجھے تلاش کروں
ہر ایک دور میں تخلیقِ ارتعاش کروں
—-
یوں تو ہوں ایک لفظ ہی میں بھی لغات کا
مفہوم کے لحاظ سے سب سے جدا ہوں میں
—-
یہ تیری بزم ہے یاں تیرا سکہ چلتا ہے
کوئی بھی بات مری معتبر نہیں نہ سہی
—-
اب تو یوں لب پہ مرے حرفِ صداقت آئے
ناگہاں شہر پہ جیسے کوئی آفت آئے
—-
نہ چشم اشارے سے واقف نہ لب کا حرف سے ربط
کچھ ایسے سلسلے بھی قیل و قال کے دیکھے
—-
یہ سلسلۂ شام و سحر یوں ہی نہیں ہے
ہر قافلہ سرگرم سفر یوں ہی نہیں ہے
…….
میں اور خلق کے دکھڑوں سے بے نیاز رہوں
یہ حوصلہ تو فقط ۔۔۔۔۔۔۔ کردگار رکھتا ہے
۔۔۔۔
زخم احساس کبھی چین نہ لینے دے گا
سر میدان تمنا ۔۔ ۔۔ ہمیں مرنا ہوگا
…..
آب رواں ہوں راستہ کیوں نہ ڈھونڈ لوں
میں تیرے انتظار میں کب تک رکا رہوں
تاریکیاں محیط ہیں ہر انجمن پہ آج
لازم نہیں کہ میں تری محفل میں ہی جلوں
گھبرا رہا ہے جی مرا تن کے مکان میں
مجبوریوں کے سائے میں کب تک پڑا رہوں
نکلا ہوں تیری بزم سے مانند دود شمع
چاہوں بھی اب کبھی تو میں واپس نہ آ سکوں
ملنا ترا تو خیر بڑی بات ہے مگر
اتنا بھی کم نہیں ہے کہ میں خود کو ڈھونڈ لوں
خود سے بھی کوئی ربط نہیں میرا ان دنوں
تجھ سے تعلقات کی تجرید کیا کروں
آنکھیں بجھی بجھی ہیں تو منظر مٹے مٹے
اے زندگی کہاں سے تجھے آب و رنگ دوں
روحیؔ یہ دور زیست مسلسل عذاب ہے
کھل کر نہ ہنس سکوں نہ کبھی کھل کے رو سکوں
……..
اپنی مرضی ہی کرو گے تم بھی
کچھ کسی کی نہ سُنو گے تم بھی
وقت اسے بچ نہ سکو گے تم بھی
جو کرو گے، وہ بَھرو گے تم بھی
ایک آواز سُنی ہے ہم نے
ایک آواز سُنو گے تم بھی
آج آندھی ہو، تو مٹّی کی طرح
ایک دِن بیٹھ رہو گے تم بھی
آج سرکار بنے بیٹھے ہو
کل کو فریاد کرو گے تم بھی
یہی ہوتا ہے، یہی ہونا ہے
ایک دِن ہاتھ ملو گے تم بھی
جب نکل جائے گا روحیؔ مطلب
کتنے اِلزام دَھرو گے تم بھی
…..