روتا ہوں…! کوئی جب اپنے بچے کو کھلاتا ہے تو روتا …
روتا ہوں…!
کوئی جب اپنے بچے کو کھلاتا ہے تو روتا ہوں
میری بیٹی کا بچپن یاد آتا ہے تو روتا ہوں
وہ پہلی بار کا ہنسنا وہ پہلی بار کا کچھ کہنا
کوئی آکر کے جب مجھ کو بتاتا ہے تو روتا ہوں
کہیں پر اپنے بچے کو سلانے کے ارادے سے
کوئی پیارسے لوری گنگناتا ہے تو روتا ہوں
میری بچی کے ننھے پائوں کب پہلی دفعہ اٹھے
وہ منظر ذہن میں جب جگمگاتا ہے تو روتا ہوں
کھلاتا گود میں تجھ کو تو مجھ سے کھیلتی رہتی
میری بیٹی یہ ارماں جب ستاتا ہے تو روتا ہوں
میری انگلی پکڑ کر کس طرح چلتی میری بیٹی ؎
یہی احساس جب جب جاگ جاتا ہے تو روتا ہوں
میں گھر میں آتا بیٹی دوڑ کر بانہوں میں آجاتی
تصور میرا جب بانہیں بڑھاتا ہے تو روتا ہوں
تصور کے گلستانوں سے دنیائے حقیقت تک
کوئی جب کھینچ کر کے مجھ کو لاتا ہے تو روتا ہوں
میرا جب دوست کوئی اپ نے بچے کے لیے مجھ کو
کھلونوں کی دکاں پر لے کے جاتا ہے تو روتا ہوں
کسی معصوم حرکت سے کسی ننھی شرارت سے
کوئی بچہ کسی کو جب ہنساتا ہے تو روتا ہوں
کوئی معصوم بچہ شرط رکھ کر کے باپ سے اپنے
کبھی جب دوڑتا ہے جیت جاتا ہے تو روتا ہوں
کوئی ب چہ کبھی انگلی پکڑ کر اپنے والد کی
یونہی کچھ کہتے کہتے مسکراتا ہے تو روتا ہوں
مسرت کے کسی موقع پہ جب اسکول کے اندر
کوئی بچہ کہیں جب گیت گاتا ہے تو روتا ہوں
اچانک چلتے چلتے راہ میں چھپ کر کوئی بچہ
جب اپنے باپ کا دل آزماتا ہے تو روتا ہوں
کوئی بچہ سواری کے لیے معصوم خواہش سے
جب اپنے باپ کو گھوڑا بناتا ہے تو روتا ہوں
جب اپنے توتلے پن سے کسی بھی چیز کی خاطر
کسی بچے کو جب بھی دیکھتا ہوں ساتھ والد کے
تو میرا شوق میرا دل لبھاتا ہے تو روتا ہوں
کوئی بچہ کبھی نائو کاغذ کی بناتا ہے
اسے بارش کے پانی میں بہاتا ہے تو روتا ہوں
میری بیٹی جو میرے پاس ہوتی وہ بھی یوں کرتی
تصور جب یہی منظر گھماتا ہے تو روتا ہوں
میری بیٹی میرا سب کچھ ہے میرے دل کا ٹکڑا ہے
نہ ہونے کا مگر احساس چھاتا ہے تو روتا ہوں
سوا تیرے میری بیٹی مرے پاس ایک دنیا ہے
مجھے تیری کمی کا غم ستاتا ہے تو روتا ہوں
میری بچی تیرا معصوم بچپن چھن گیا مجھ سے
یہی احساس میرا منہ چڑھاتا ہے تو روتا ہوں
تو میرے پاس آکر کھیلتی ہے خواب میں میرے
اسی دم نیند سے کوئی جگاتا ہے تو روتا ہوں
میرے حالات نے مجھ سے الگ کردی میری بیٹی
وہ منظر ذہن کے پردے پہ چھاتا ہے تو روتا ہوں
مگر میں کیا کروں میں بے بسی کا ایک پیکر ہوں
میرے سینے میں دل ہے دل رُلاتا ہے تو روتا ہوں
نذیری کیا کروں بیٹی ہے میری میرا حصہ ہے
کہ میرے خون کا جب اس سے ناتا ہے تو روتا ہوں
(مسیح الدین نذیری معروفی)
…….
ایک باپ کے بیٹی کی جدائی پر کیا احساسات ہوسکتے ہیںجب ان سے حالات کے جبر بیٹی سے کنارہ کشی پر مجبور کردے۔