رنج کتنا بھی کریں , اُن کا زمانے والے جانے والے ت…


رنج کتنا بھی کریں , اُن کا زمانے والے
جانے والے تو , نہیں لوٹ کے آنے والے

کیسی بے فیض سی , رہ جاتی ھے دل کی بستی
کیسے چُپ چاپ چلے جاتے ھیں جانے والے

ایک پل , چھین کے انسان کو لے جاتا ھے
پیچھے رہ جاتے ھیں , سب ساتھ نبھانے والے۔

جانے والے تری مرقد پہ کھڑا سوچتا ھُوں
خواب ھی ھو گئے , تعبیر بتانے والے

”سعود عثمانی“


بشکریہ
https://www.facebook.com/Inside.the.coffee.house