رفیق احمد نقش کا یومِ وفات
May 15, 2013
آمدِ فصلِ گُل پر ہوائے طرب ناک چلنے لگی ، تیری یاد آگئی
دھیرے دھیرے فضائے جہاں اپنی رنگت بدلنے لگی ، تیری یاد آگئی
پھر کتابِ گذشتہ کے اوراق نظروں کے آگے پریشان پھرنے لگے
رُت بدلنے لگی ، دل میں چپکے سے اک آگ جلنے لگی ، تیری یاد آگئی
دُور تک لہلہاتے ہوئے رقص کرتے ہوئے پھول ہیں میری تنہائی ہے
آج دل میں کسی ساتھ کی آرزو جب مچلنے لگی ، تیری یاد آگئی
سب طیور اپنے اپنے ٹھکانوں کی جانب روانہ ہوئے ، اک بہانہ ہوئے
دل کی افسردگی میں اضافہ ہوا ، شام ڈھلنے لگی ، تیری یاد آگئی
رات آخر ہوئی ، درد افزوں ہوا ، آنکھ سے آنسوؤں کی جھڑی لگ گئی
شام ہی سے عجب کیفیت تھی مری ، جاں نکلنے لگی ، تیری یاد آگئی
…
اس دنیا میں بہت سے افراد ایسے بھی ہیں جنہوں نے اپنی زندگی واقعی تقسیم کرنے اور بانٹنے میں صرف کر دی لیکن پِھر بھی نمود و نمائش اور رِیاء سے کوسوں دور رہے کیونکہ انہوں نے اپنے فن اور علم کو عوام کی امانت سمجھا اور عملی کوشِش کی کہ امانت کو امانت دار تک پہنچا دیا جائے ایسے افراد بلاشبہ نعمت سے کم نہیں ہوتے ان میں ایک نام جناب رفیق احمد نقش کا ہے۔۔ رفیق احمد نقش میر پور خاص میں پیدا ہُوئے۔۔۔آپ ماہر لسانیات ، بہترین شاعر ، اور محقق تھے اصلاحِ املاء ان کا خاص موضوع تھا۔۔ادبی جریدے” تحریر” اور”سب رنگ” کے اساسی مدیر رہے۔ شمس الحق کی مشہور کتاب "اردو کے ضرب المثل اشعار” کی تدوین اور”ایم ایف حسین کی کہانی اپنی زبانی” کا اردو ترجمہ جناب رفیق نقش نے ہی کیا تھا۔ میرزا اسدؔ اللہ خان غالب پر بہت تحقیقی کام کیا۔۔ نامہ ہائے فارسی ، مآثرِ غالِب ، غالب کی اردو نثر اور نوادرِ غالِب ان کی مقبول عام تصانیف ہیں۔ جناب رفیق احمد نقش پندرہ مئی 2013 کو کراچی میں انتقال کر گئے۔
( حکیم خلیق الرحمٰن)


جواب دیں
تبصرہ کرنے سے پہلے آپ کا لاگ ان ہونا ضروری ہے۔