رسمِ تعظیم نہ رسوا ہو جائے
اتنا مت جھکئے کہ سجدہ ہوجائے
پروفیسر ملک زادہ منظور احمد کا یومِ وفات
Apr 22, 2016
لکھنؤ یونیورسٹی کے شعبہ اردو کے سابق صدر رہ چکے مرحوم احمد نے 1949 کے بعد ملک کے مختلف حصوں کے علاوہ امریکہ، کینیڈا، ایران، متحدہ عرب امارات، بحرین، عمان، سعودی عرب، قطر، نیپال اور پاکستان سمیت کئی ملکوں میں ہزاروں مشاعروں میں شرکت کی۔وہ اترپردیش اردو اکیڈمی کے صدر بھی رہ چکے تھے۔ایک سے زیادہ کتابوں کے مصنف مرحوم احمد کا پہلا ناول 1954 میں "کالج گرل” کے نام سے شائع ہوا تھا۔ اردو ادب کی بے پایاں خدمات کے اعتراف میں اتر پردیش اور مدھیہ پردیش اردو اکیڈمی ایوارڈ‘، کے علاوہ وہ ہری ونش رائے بچن ایوارڈ، صوفی جمال اختر انعام اور فراق سمان سمیت ملک وو بیرون ملک متعدد ایوارڈ سے نوازا جا چکے تھے
آپ کے چند منتخب اور مشہور شعر درجِ ذیل ہیں:
ہر قدم مرحلۂ مرگِ تمنا ہے مگر
زندگی پھر بھی ترا ساتھ نہ چھوڑا جائے
آوارگی کا حق ہے ہواؤں کو شہر میں
گھر سے چراغ لے کے نکلنا محال ہے
تشنہ لبی نے جب بھی ذوقِ عمل دیا ہے
رندوں نے میکدے کا ساقی بدل دیا ہے
سب نے سنی ہے جس میں ’عصرِ رواں ‘ کی دھڑکن
منظورؔ ! ہم نے ایسا سازِ غزل دیا ہے
وہی قاتل ، وہی منصف، عدالت اس کی ، وہ شاہد
بہت سے فیصلوں میں اب طرفداری بھی ہوتی ہے
رسمِ تعظیم نہ رسوا ہو جائے
اتنا مت جھکئے کہ سجدہ ہوجائے
زندگی میں پہلے تو اتنی پریشانی نہ تھی
تنگ دامانی تھی لیکن چاک دامانی نہ تھی
دیکھو گے تو ہر موڑ پہ مل جائیں گی لاشیں
ڈھونڈوگے تو اس شہر میں قاتل نہ ملے گا
دل کا ہر قطرۂ خوں رنگِ حنا سے مانگو
خوں بہا دوستو ! قاتل کی ادا سے مانگو
خواب کا رشتہ حقیقت سے نہ جوڑا جائے
آئینہ ہے اسے پتھر سے نہ توڑا جائے
پڑھ چکا اپنی غزل منظور ؔ تو ایسا لگا
مرثیہ تھا دورِ حاضر کا غزل خوانی نہ تھی

جواب دیں
تبصرہ کرنے سے پہلے آپ کا لاگ ان ہونا ضروری ہے۔