پیر • 5 اکتوبر 2026ء

✦ منتخب نظمیں

رائیگانی کا پہلا پڑاؤ – فریحہ نقوی تمہارے اور میر…

رائیگانی کا پہلا پڑاؤ – فریحہ نقوی

تمہارے اور میرے درمیاں جو لوگ فاصلہ بنے رہے
عجیب واہمہ بنے رہے،
وہ سب تمہارے نقش پا کی دھول تھے۔۔۔
یہ تم نہیں سمجھ سکے۔۔۔
میں خود بھی کب سمجھ سکی۔۔۔
کہاں کہاں سے زندگی اٹھا اٹھا کے سب عذاب
ہماری خالی جھولیوں میں ڈالتی چلی گئی
تو کیا ہمارے دامنوں کی وسعتوں کی کوئی انتہا نہ تھی؟
میں سچ کہوں تو سب کا سب سراب ہے
وفا، انا، یقین ، شک ،
خوشی غمی وجود تک۔۔۔۔۔
یہ تم، یہ میں ، یہ پیار ، یہ جدائی بھی سراب ہے
خدا تو ہے، خدائی بھی سراب ہے۔۔۔۔۔
کوئی حصار واہموں کا۔۔۔۔
ڈھول کی طرح گلے پڑا ہوا بجائے جا رہے ہیں ہم
کسی شکستہ خواب کی اذیتوں میں آنکھ کو بہائے جارہے ہیں ہم۔۔۔۔
اور آنکھ جب کھلے،
پتہ چلے کہ خواب سے بہاؤ تک کا یہ سفر تو رائیگاں گیا۔۔۔۔۔
ہمارے درمیاں کبھی جو ہاتھ بھر کا فاصلہ تھا، پھیلتا چلا گیا۔۔۔

فریحہ نقوی