ذرہ سا افغان ادب سے ـ جب میں افغانی ادب میں افغان…

ذرہ سا افغان ادب سے ـ

جب میں افغانی ادب میں افغانی ادیب ’سپوژمے زریاب‘ کا لکھا افسانہ ”فرشتے کا شکار“ پڑھ رہا تھا تو میں تنگ برقعے میں لپٹی حسین و جمیل لڑکی کے تصور میں چلا جاتا ہوں جس کی چاہتیں اور ضرورتیں، امنگ، سوز و ساز، عشق و محبت کو گناہ کے زمرے میں لکھ کر ہمیشہ قدامت پسندی کے تحت قبائلی رسوم اور ثقافتی گھٹن کا غلام بنایا جاتا ہےـ سپوژمے زریاب ان خواتین کے احساسات کو خوب نمایاں کیا ہے، وہ مذاہب اور فرسودہ رسوم سے بھی باغی نظر آتی ہیں، افسانے کے کردار آپس میں کچھ یوں اظہار خیال کرتے ہیں ـ

”مجھے ایسا محسوس ہوا کہ دوزخ ایک بڑے شکنجے کی جگہ ہے، جہاں ہر طرف انسان کے جلے ہوئے اور ریزہ ریزہ ہوئے ہاتھ پاؤں، سر، دھڑ پڑے ہوئے ہیں ـ بہت ہی ڈراؤنا تصور تھا اور اس لمحے سے میرے تعلقات بائیں کندھے والے ملڭ بلکہ بائیں کندھے، بائیں پاؤں، بائیں ہاتھ سے خراب ہو گئے تھےـ مجھے ایسا لگا کہ میرے بائیں کندھے والا ملڭ صبح سے رات اور رات سے صبح تک میرے بارے میں لکھتا جاتا ہے اور کوشش کرتا ہے کہ مجھے دوزخ میں بھیج دےـ اگر میں بڑوں کو سلام نہیں کرتی یا اگر میں بڑوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر باتیں کرتی یا اگر میں ان کی اچھی بری بات کی اطاعت نہ کرتی یا ان سے جراح کرتی یا اگر پانی پیتی اور خدا کا شکر ادا نہ کرتی اور اگر کوئی بڑا آتا اور میں ان کی عزت کے لیے کھڑی نہ ہو جاتی یا اگر میں کسی بڑے کا ہاتھ نہ چومتی تو مجھے ایسا لگتا کہ میرا کام خراب ہو ہی جائے گا اور یہ میرے بائیں کندھے والا ملڭ ایک اچھے رپورٹر کی طرح سڑ سڑ لکھ ڈالے گا اور میرے اور دوزخ کے درمیاں فاصلہ کم سے کم تر ہوتا چلا جائے گاـ کبھی کبھی میں ڈر سے دل نہ چاہتے ہوئے بھی اپنا چہرا بائیں کندھے کی طرف کرتے ہوئے گویا دوستی کے جذبے کے ساتھ مسکراتی. میں چاہتی تھی کہ بائیں کندھے والے ملڭ سے کہوں کہ تم مجھے پسند ہو اور اس طرح اس کے ساتھ میرے تعلقات اچھے ہو جائیں یا کم سے کم وہ غلط یا ضد میں اکر میرے خلاف کچھ درج نہ کرے“ـ

#افغانی_ادب


بشکریہ
https://www.facebook.com/groups/1876886402541884/permalink/2921654308065083