ذاخرؔ لکھنوی
اب تک ہے کہاں تو کہ دو عالم سمٹ آئے
وقت آ گیا محشر میں تری جلوہ گری کا
….
ہے یاد ابھی تک مجھے رفتارِ جوانی
وہ جھوم کے چلنا وہ قدم بے خبری کا
ذاخرؔ لکھنوی اب تک ہے کہاں تو کہ دو عالم سمٹ آئے …
Comments
One response to “ذاخرؔ لکھنوی اب تک ہے کہاں تو کہ دو عالم سمٹ آئے …”
-
Wah
جواب دیں
تبصرہ کرنے سے پہلے آپ کا لاگ ان ہونا ضروری ہے۔