دِپتی نول کی ایک نظم چلودورتک اجنبی راستوں پہ پ…

دِپتی نول کی ایک نظم

چلودورتک
اجنبی راستوں پہ پیدل چلیں
کچھ نہ کہیں

اپنی اپنی تنہائیاں لیے
سوالوں کے دائروں
سے نکل کر
رواجوں کی سرحدوں کے پرے
ہم یونہی ساتھ چلتے رہیں
کچھ نہ کہیں

تم اپنے ماضی کاکوئی ذکر نہ چھیڑو
میں بھولی ہوئی کوئی نظم نہ دہرائوں
تم کون ہو
میں کیاہوں
ان سب باتوں کو بس رہنے دیں
کچھ نہ کہیں

چلو دورتک
اجنبی راستوں پہ پیدل چلیں


بشکریہ
https://www.facebook.com/groups/1876886402541884/permalink/2995089537388226