دو عالم کا امدادگار آگیا ہے امین آگیا، غم گسار آگی…
دو عالم کا امدادگار آگیا ہے
امین آگیا، غم گسار آگیا ہے
غریبوں کی جاں کو، یتیموں کے دل کو
سکوں ہو گیا ہے، قرار آگیا ہے
اصول محبت ہے، پیغام جس کا
وہ محبوب پروردگار آگیا ہے
اب انساں کو انساں کا عرفان ہو گا
یقیں ہو گیا، اعتبار آگیا ہے
بجھے گا نہ جس کا چراغ محبت
وہ پیغمبر ذی وقار آگیا ہے
زمانے کو اب اپنی منزل مبارک
کہ اک خضر صد رہ گزار آگیا ہے
احسان دانش