دوا ہر دکھ کی ہے مجروح تیغ آرزو رہنا علاج زخم ہے آ…
دوا ہر دکھ کی ہے مجروح تیغ آرزو رہنا
علاج زخم ہے آزاد احسان رفو رہنا
شراب بے خودی سے تا فلک پرواز ہے میری
شکست رنگ سے سیکھا ہے میں نے بن کے بو رہنا
تھمے کیا دیدہ گریاں وطن کی نوحہ خوانی میں
عبادت چشم شاعر کی ہے ہر دم باوضو رہنا
بنائیں کیا سمجھ کر شاخ گل پر آشیاں اپنا
چمن میں آہ کیا رہنا جو ہو بے آبرو رہنا
جو تو سمجھے تو آزادی ہے پوشیدہ محبت میں
غلامی ہے اسیر امتیاز ماوتو رہنا
یہ استغنا ہے پانی میں نگوں رکھتا ہے ساغر کو
تجھے بھی چاہیے مثل حباب آبجو رہنا
نہ رہ اپنوں سے بے پروا اسی میں خیر ہے تیری
اگر منظور ہے دنیا میں او بیگانہ خو رہنا
شراب روح پرور ہے محبت نوع انساں کی
سکھایا اس نے مجھ کو مست بے جام و سبو رہنا
محبت ہی سے پائی ہے شفا بیمار قوموں نے
کیا ہے اپنے بخت خفتہ کو بیدار قوموں نے