دنیا نے بے شمار عدمؔ کو دیے ہیں رنج
اے دوست چیز تو بھی کوئی یادگار دے
عدمؔ
دنیا نے بے شمار عدمؔ کو دیے ہیں رنج اے دوست چیز تو…
Comments
3 responses to “دنیا نے بے شمار عدمؔ کو دیے ہیں رنج اے دوست چیز تو…”
-
WAH BOHAT KHOB
-
وااااہ رے عدم
-
دنیا نے بے شمار عدمؔ کو دیے ہیں رنج
اے دوست چیز تو بھی کوئی یادگار دےتواریخ نویسی کا یہ المیہ رہا ہے کہ یہ ایسے لکھاریوں کے ہتھے چڑھ گئی جو تحقیق اور مشاہدے کی بجائے "سُنی سنائی”پر یقین رکھتے تھے۔۔اور اسی عادت کے تحت انہوں نے خود کو مؤرخ کہلوانے کے لئے ایسے واقعات کو تواریخ کا حصہ بنا ڈالا جو ان کی اپنی محدود سوچ کا حصہ تھے۔ اب وفات پا جانے والے شعراء کے بارے میں لکھے گئے واقعات کو ہی لے لیجئے ۔۔۔۔یہ کیسی ستم ظریفی ہے کہ اگر کوئی صاحب اپنے معاشقوں کو شاعری کا حصہ بنائیں اور صنف نازک کو اپنے لکھے گئے محبت بھرے خطوط بھی شائع کر دیں تو دانشور کہلاتے ہیں، ۔۔۔۔یا ایک شاعر اپنی شاعری کا زیادہ تر حصہ اپنے معاشقوں کے اظہار کی نذر کردے تو بھی شرافت کا تاج ہی پہنتا ہے مگر عدم جیسا شاعر اپنی جاوید شاعری کے باوجود فرضی کہانیوں سے لئے گئے قصوں کا شکار ہوجاتا ہے۔۔۔سامع اور قاری کا یہ بڑا مسئلہ ہے کہ جس شاعری میں شراب اور جام کا ذکر دیکھا یا سُنا جھٹ سے شاعر پہ شرابی اور کبابی کا فتویٰ جَڑ دیا۔۔۔
عدم کے صاحبزادے ابھی زندہ ہیں ان سے ذکر کیجئے عدَم کے بارے میں لکھے گئے عجیب سوانحی واقعات کا۔۔۔آپ کو عزت کرنا بھی سکھائیں گے اور تصحیح بھی کر دیں گے۔۔باقی رہی بات دوسری یا تیسری شادی کی تو آپ ہی کی طےکردہ تقسیم کے مطابق اگر کوئی ترقی پسند انسان دوسری شادی کرلے تو خداترسی اور اگر آپ کا ٹھہرایا ہُوا کوئی رجعت پسند دوسری شادی کرلے تو عیاشی۔۔۔۔؟؟واہ۔۔۔مؤرخ واہ(حکیم خلیق الرحمٰن)
جواب دیں
تبصرہ کرنے سے پہلے آپ کا لاگ ان ہونا ضروری ہے۔