دماغ میں شور سا بپا ہے کئی دنوں سے
وہ ٹوٹ کر یاد آ رہا ہے کئی دنوں سے
جسے تُو سوتا ہوا سمجھ کر چلا گیا تھا
تجھے نہ پا کر وہ جاگتا ہے کئی دنوں سے
اے دِل نہیں ہے اس آشنا تک تری رسائی
جسے تو دن رات سوچتا ہے کئی دنوں سے
ہماری آنکھوں کے خواب سارے عذاب سارے
یہ کون ہے جو سمیٹتا ہے کئی دنوں سے
’’نہیں‘‘ کی تکرار بس گئی شب کے گنبدوں میں
بس ایک ہی لفظ گونجتا ہے کئی دنوں سے
عداوتیں بھی بطرزِ الفت نبھا رہا ہے
وہ میرے لہجے میں بولتا ہے کئی دنوں سے
کئی دنوں سے میں دیکھتا ہوں اسی کی جانب
جو شخص مجھ سے گریز پا ہے کئی دنوں سے
حواس و ہوش و گمان و نطق و خیال چپ ہیں
یہ مجھ پہ کیسا جمود سا ہے کئی دنوں سے
محال تھا جس کو سانس لینا بغیر میرے
بچھڑ کے مجھ سے وہ جی رہا ہے کئی دنوں سے
عبدالرحمان واصفؔ
از:-بجھی ہوئی شام ص۴۳/۴۴
اِنتِخاب
سفیدپوش

جواب دیں
تبصرہ کرنے سے پہلے آپ کا لاگ ان ہونا ضروری ہے۔