منگل • 6 اکتوبر 2026ء

✦ منتخب غزلیں

خوش جو آئے تھے پشیمان گئے اے تغافل تجھے پہچان گئے …


خوش جو آئے تھے پشیمان گئے
اے تغافل تجھے پہچان گئے

خوب ہے صاحبِ محفل کی ادا
کوئی بولا تو برا مان گئے

کوئی دھڑکن ہے نہ آنسو نہ امنگ
وقت کے ساتھ یہ طوفان گئے

اس کو سمجھے کہ نہ سمجھے لیکن
گردشِ دہر تجھے جان گئے

تیری اک ایک ادا پہچانی
اپنی اک ایک خطا مان گئے

اس جگہ عقل نے دھوکا کھایا
جس جگہ دل ترے فرمان گئے
زہرہ نگاہ
…
محترمہ زہرا نگاہ 14 مئی، 1937ء حیدرآباد، دکن، برطانوی ہندوستان میں علمی گھرانے میں پیدا ہوئیں۔ ان کا اصل نام فاطمہ زہرہ ہ ہے۔ آپ کے والد قمر مقصود کا شمار بدایوں کے ممتاز لوگوں میں ہوتا ہے۔ جبکہ مشہور ڈراما نویس فاطمہ ثریا بجیا آپ کی بڑی بہن اور مقبول عام ہمہ جہت رائٹر انور مقصود بھائی ہیں۔ زہرا نگاہ کا خاندان تلاش معاش میں حیدر آباد دکن میں آباد ہو گیا۔ تقسیم ہند کے بعد زہرا نگاہ اپنے خاندان کے ساتھ حیدر آباد دکن سے ہجرت کر کے کراچی آ گئیں اور یہیں پر اپنی تعلیم مکمل کی۔

زہرا نگاہ کو شعر و سخن کا ذوق ورثہ میں ملا۔ اس لیے آپ نے صرف گیارہ سال کی عمر میں ایک نظمگڑیا گڈے کی شادی لکھی۔ زہرا نگاہ نے جگر مراد آبادی کو اصلاح کی غرض سے ابتدائی کلام دکھایا مگر جگر مراد آبادی نے یہ کہہ کر اصلاح سے انکار کر دیا کہ تمہارا ذوقِ مستحسن خود ہی تمہارے کلام کی اصلاح کر دے گا
غزل

جنونِ اولیں شائستگی تھی​
وہی پہلی محبت آخری تھی
کشادہ تھے بہت بازوِ وحشت​
یہ زنجیرِخرد الجھی ہوئی تھی​
جہاں ہم پھر سے بسنا چاہ رہے تھے​
وہ بستی ہُو کی دنیا ہو چکی تھی​
کبھی اک لفظ کے سو سو معانی​
کبھی ساری کہانی اَن کہی تھی​
اب اپنے آپ سے بھی چُھپ گئی ہے​
وہ لڑکی جو سب کو جانتی تھی​​
سحر آغاز، شب اتمامِ حجت​
عجب زہرا کی وضعِ زندگی تھی