خوددار لوگ
دنیا میں تین طرح کے لوگ بستے ہیں:
1. امیر طبقہ – جنہیں مہنگائی کی فکر نہیں، نہ ہی غربت کا درد محسوس ہوتا ہے۔ وہ ملکی حالات سے باخبر رہتے ہوئے بھی اپنے گھریلو ملازمین کی حالت سے بے خبر رہتے ہیں۔ ان کے لیے روٹی، کپڑا اور مکان کوئی مسئلہ نہیں، کیونکہ سب کچھ وافر مقدار میں میسر ہوتا ہے۔
2. غریب طبقہ – وہ لوگ جن کے لیے دو وقت کی روٹی بھی خواب بن جاتی ہے۔ بعض اوقات ان کے گھروں میں چولہا دو دو دن تک نہیں جلتا، اور وہ مجبور ہو کر دوسروں کے در پر دستک دیتے ہیں، کبھی مزدوری کر کے تو کبھی ہاتھ پھیلا کر، صرف اس امید میں کہ ان کے بچے بھوکے نہ سوئیں۔
3. متوسط طبقہ – یہی وہ طبقہ ہے جو نہ تو اتنا امیر ہوتا ہے کہ فضول خرچی کر سکے، اور نہ ہی اتنا غریب کہ بھیک مانگنے پر مجبور ہو جائے۔ یہی طبقہ سب سے زیادہ پریشان ہوتا ہے، مگر اس کی خاموشی اسے مزید مضبوط بنا دیتی ہے۔
متوسط طبقے کی کشمکش
یہ طبقہ دو حصوں میں بٹا ہوتا ہے۔ ایک وہ جو مہینے کی تنخواہ سے بمشکل پندرہ سے بیس دن گزار پاتے ہیں، کیونکہ آدھی تنخواہ قرض اور ادھار اتارنے میں نکل جاتی ہے۔ اور باقی دن کسی سے دوبارہ قرض لے کر گزارنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔
مگر دوسرا گروہ وہ ہوتا ہے جو سب سے زیادہ خوددار ہوتا ہے۔ یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو اپنی چادر دیکھ کر پاؤں پھیلاتے ہیں۔ جو نہ کسی کے آگے ہاتھ پھیلاتے ہیں، نہ اپنے حالات کا رونا روتے ہیں۔ جنہیں کوئی خبر نہیں ہوتی کہ اگلے مہینے کیا ہوگا، مگر وہ اپنا والی و وارث صرف اللہ کو مان کر جیتے ہیں۔
یہ لوگ وہ ہوتے ہیں جو ہر مشکل کو صبر کے ساتھ سہہ جاتے ہیں۔ جو اپنی ضروریات کو خواہشات کے دائرے میں نہیں لاتے۔ جو بچوں کو نئی کتابیں دلانے کے بجائے پرانی کتابیں مرمت کروا کر کام چلا لیتے ہیں، مگر کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلاتے۔ جو بیوی کی فرمائشوں پر مسکرا کر کہتے ہیں، "ان شاء اللہ، جلد لے دیں گے” جبکہ حقیقت میں جیب میں چند روپے ہی ہوتے ہیں۔
یہ وہ سفید پوش لوگ ہیں جو تکلیف میں بھی مسکراتے ہیں، جو دل کی آنکھوں سے روتے ہیں مگر باہر سے مطمئن نظر آتے ہیں۔ جو ہر خوشی قربان کر دیتے ہیں، مگر عزت پر آنچ نہیں آنے دیتے۔
اصل ہیرو کون؟
کیا اصل ہیرو وہ ہیں جو بڑی گاڑیوں میں گھومتے ہیں، یا وہ جو خاموشی سے ہر بوجھ برداشت کر کے اپنے بچوں کو عزت سے پال رہے ہوتے ہیں؟
کیا قابلِ تعریف وہ ہیں جو فضول خرچیاں کرتے ہیں، یا وہ جو ہر چیز ناپ تول کر خریدتے ہیں مگر کبھی کسی کے سامنے اپنی غربت کا دکھڑا نہیں روتے؟
یہ سفید پوش، خوددار لوگ ہی اصل ہیرو ہیں۔ جو سب کچھ سہہ کر بھی سر اٹھا کر جیتے ہیں۔ جو عزت اور غیرت پر سمجھوتہ نہیں کرتے۔ جو دنیا کے سامنے خوش رہتے ہیں، چاہے اندر سے کتنے ہی ٹوٹے ہوئے کیوں نہ ہوں۔
یہی وہ لوگ ہیں جو اصل تعریف کے حقدار ہیں!
منتخب
Source