منگل • 6 اکتوبر 2026ء

✦ منتخب غزلیں

خاکِ رہ نفع سہی ، ہجر کمائی ہی سہی منزل…


خاکِ رہ نفع سہی ، ہجر کمائی ہی سہی
منزلِ وصل نہیں ، آبلہ پائی ہی سہی

ضُعف تسلیم مگر جمِّ اسیرانِ جفا!
کوئی چارہ تو کرو ، شور دُہائی ہی سہی

مَیں تَہی دست کہاں یاد بھی دے پایا اُسے
وہ تو کچھ دے ہی گیا، رنجِ جدائی ہی سہی

رُخ سے پردہ تو ہٹے ، محشرِ دیدار تو ہو
چشمِ خنداں نہ سہی ، چشم نمائی ہی سہی

دل کو تسکین سی ہے جان سے جاتے جاتے
دَہر میں کچھ تو کِیا ، درد سَرائی ہی سہی

آنکھ روتی ہی رہے ، حاصلِ گِریہ نیّرؔ
اور کچھ بھی نہ سہی، دل کی صفائی ہی سہی

شہزاد نَیّرؔ

از:-خوابشار ص ۶۴

اِنتِخاب
سفیدپوش