حیراں ہوں زندگی کی انوکھی اُڑان پر پاؤں زمین پر ہ…
حیراں ہوں زندگی کی انوکھی اُڑان پر
پاؤں زمین پر ہیں مزاج آسمان پر
یہ زخم تو ملا تھا کسی اور سے مجھے
کیوں شکل تیری بننے لگی ہے نشان پر؟
چھوٹا سا اک چراغ بجھانے کے واسطے
ٹھہری رہی ہے رات مرے سائبان پر
میں راستوں میں اُس کا لگاؤں کہاں سراغ؟
سو سو قدم ہیں ایک قدم کے نشان پر
بادل کو چومتی رہیں پختہ عمارتیں
بجلی گری تو شہر کے کچّے مکان پر
اُس تُندخو کو راہ میں ٹھہرا لیا ہے یا؟
دریا عدیم روک لیا ہے ڈھلان پر؟
(عدیم ہاشمی)
المرسل :-: ابوالحسن علی (ندوی)