حکیم سید علی آشفتہؔ خاندان اجتہاد کے فرد، خاندان فرنگی محل کے عزیز ترین دوست،لکھنوی تہذیب کی جیتی جاگتی تصویر، حکیم حاذق تھے۔ لکھنؤ میں حالات خراب ہونے کے بعد حیدر آباد چلے گئے تھے اور نظامیہ طبیہ کالج میں پروفیسر ہو گئے تھے۔ چند اشعار بطور نمونہ پیش ہیں : ؎
….
بھرم کھودیا ورنہ موسیٰ سے زائد
ہم اپنے میں تاب نظر دیکھتے
……
اللہ ری کوہکن تری بیدار مغزیاں
وحشت میں بھی خیال رسوم و قیود تھا
…..
آتی ہے درس گاہِ محبت سے یہ صدا
موج جہاں میں صرف وفا بے وجود تھا
….
لو انھیں شاخوں میں جھولے جھولتی ہیں بجلیاں
جو مجھے سونپی گئی تھیں آشیا نے کے لیے
….
طور و موسیٰ سے عیاں نیرنگِ جذب حسن ہے
ایک تو بیخود ہوا اور اک سراپا جل گیا
جواب دیں
تبصرہ کرنے سے پہلے آپ کا لاگ ان ہونا ضروری ہے۔