حفیظ تائب نعتِ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم …
حفیظ تائب
نعتِ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
رہی عمر بھر جو انیسِ جاں وہ بس آرزوئے نبی رہی
کبھی اشک بن کے رواں ہوئی کبھی درد بن کے دبی رہی
شہِ دیں کی فکر ونگاہ سے مٹے نسل ورنگ کے تفرّقے
نہ رہا تفاثرِ منصبی، نہ رعونتِ نسبی رہی
سرِ دشتِ زیست برسس گیا، جو سحابِ رحمت مصطفیٰ
نہ خرد کی بے ثمری رہی، نہ جنوں کی تشنہ لبی رہی
تھی ہزار تیرگئی فتن، نہ بھٹک سکا مرا فکر وفن
مری کائناتِ خیال پر نظرِ شہِ عربی رہی
وہ صفا کا مہر منیر ہے طلب اس کی نورِ ضمیر ہے
یہی روزگارِ فقیر ہے، یہی التجائے شبی رہی
وہی ساعتیں تھیں سرور کی، وہی دن تھے حاصلِ زندگی
بحضورِ شافعِ اُمتاں مری جن دنوں طلبی رہی