حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللّٰہ عنہ کےگھر رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے قیام کرنے کے واقعات اتنے ایمان افروز ہیں کہ انھیں بار بار بیان کرنے اور پڑھنے کو جی چاہتا ہے۔۔💓💓💓💓💓
حضرت ابو ایوبؓ کا گھر دومنزلہ تھا۔ بالائی منزل کو خالی کردیا گیا تاکہ رسول اللّٰہ ﷺ اس میں قیام کریں، لیکن نبی علیہ السلام نے رہائش کے لئے نچلی منزل کو ترجیح دی۔ حضرت ابو ایوب انصاری ؓنے آپ ﷺ کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے ،جہاں آپ ﷺ نے رہنا پسند کیا، وہیں انتظام کردیا۔❤️❤️❤️
جب رات ہوئی رسول ﷺ بستر پر لیٹ گئے تو حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللّٰہ عنہ اور ان کی اہلیہ بالائی منزل پر چلے گئے، لیکن فوراً خیال آیا کہ افسوس ہم کیا کر بیٹھے، کیا ہمارے آقا رسول ﷺ نیچے آرام کریں گے اور ہم اوپر؟
کیا ہم رسول ﷺ کے اوپر چلیں پھریں گے؟
کیا ہم رسول اللّٰہ ﷺ اور وحی کے درمیان حائل ہونگے؟
ساری رات اسی حیرانی وپریشانی کے عالم میں ایک دیوار کے ساتھ لگے بیٹھ کر گزاری۔ اور اس بات کا خیال رکھا کہ وہ کمرے کے درمیان نہ چلیں ۔
جب صبح ہوئی تو حضرت ابو ایوب انصاری ؓ نے نبی علیہ السلام کی خدمت اقدس میں عرض کی:
"یا رسول اللّٰہ ﷺ بخدا ہم نے پوری رات جاگتے ہوئے گزار دی ، آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے وجہ دریافت کی تو انھوں نے عرض کیا کہ ہمارے دل میں یہ احساس پیدا ہوگیا کہ ہم اوپر ہیں اور آپ نیچے تشریف فرما ہیں۔ ہم دیوار کیساتھ چمٹ کر بیٹھے رہے کہ اگر ہم چھت پر چلیں گے تو چھت کی مٹی آپ پر پڑے گی جو آپ کو ناگوار گزرے گی۔ اور دوسری بات یہ کے ہم آپ اور وحی کے درمیان حائل ہوگئے ہیں۔”
یہ باتیں سن کر رسولﷺ نےارشاد فرمایا:
"ابو ایوب ! غم نہ کرو، نیچے رہنا میرے لئے آرام دہ ہے کیوں کہ ملاقات کی غرض سے کثرت سے لوگوں کی آمدورفت ہے۔”
حضرت ابو ایوبؓ فرماتے ہیں ہم نے رسول ﷺ کا حکم مان لیا، لیکن ایک خنک رات میں ہمارا مٹکا ٹوٹ گیا اور پانی چھت پر بہہ گیا۔ میں اور میری بیوی جلدی جلدی لحاف سے پانی خشک کرنے لگے کہ کہیں یہ پانی نیچے ٹپک کر رسول اللّٰہ ﷺ تک نہ پہنچ جائے۔ جب صبح ہوئی تو میں رسول ﷺ کی خدمت اقدس میں حاضر ہوا۔………….
میں نے عرض کی:
"یا رسول اللّٰہ ﷺ میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، مجھے اچھا نہیں لگتا کہ میں اوپر رہوں جبکہ آپ صلى الله عليه وسلم نیچے تشریف فرما ہوں۔”
پھر میں نے رات مٹکا ٹوٹنے کا واقعہ بھی سنا دیا۔ آپ ﷺ نے میری التجا کو قبول فرما لیا، آپ بالائی منزل میں جلوہ افروز ہونے پر رضامند ہوگئے اور ہم نچلی منزل میں منتقل ہوگئے۔……………
نبی کریم صلی اللّٰہ عليه وسلم تقریباً سات ماہ تک حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللّٰہ عنہ کے گھر میں قیام پذیر رہے۔ اس طرح آپ ﷺ نے بھی ان سے بے حد پیارکیا اور ہمیشہ ان کے گھر کو اپنے گھر جیسا سمجھا۔
(حیات صحابہ سے اقتباس)
واللہ اعلم
Source