پیر • 5 اکتوبر 2026ء

✦ منتخب غزلیں

جیسا تم نے دیکھا ہے’ کب ویسا رنگ ہے پانی کا : محمّد خاورؔ

جیسا تم نے دیکھا ہے’ کب ویسا رنگ ہے پانی کا
کس کو پتا ہے تاج محَل کے پیچھے اصل کہانی کا

اِن جُھریوں میں آنے والے وقتوں کے اندیشے تھے

دیکھا تب تھا ‘ پڑھتا اب ہوں چہرہ اپنی نانی کا

شہر سے دشت میں آ بیٹھا ہوں اِس کے ایک اشارے پر
جیسے مجھ کو شوق بہُت ہو ایسی نقل مکانی کا

میرے مولا ! آج کے دن تُو مجھ کو قسمت لکھنے دے
میرے گھر ہے رشتہ آیا میری بٹیا رانی کا

اب تو خاوَرؔ ! لفظ لفظ پر محنت کرنا پڑتی ہے
گئے وہ دن جب لفظ سے اپنا رشتہ تھا آسانی کا

محمّد خاورؔ