جو خُوشی جو تیری رضا، میاں تری خیر ہو
تُو بچھڑ رہا ہے تو جا، میاں تری خیر ہو
کہیں یہ نہ ہو کوئی تُجھ شجر کو بھی کاٹ دے
تو بچا ہے گھر میں بڑا، میاں تری خیر ہو
خبر آ نہیں رہی خیر کی کِسی سَمت سے
مجھے جب سے اُس نے کہا، میاں تری خیر ہو
تری بزم میں مرا یوں بھی کون ہے آشنا
بھلے جوتیوں پہ بِٹھا، میاں تری خیر ہو
تُو عَدُو نہیں تو مرے حساب میں دوست ہے
ترے نام سے مجھے کیا، میاں تری خیر ہو
مُجھے مت بتا کہ یہ رات پھر نہیں آئے گی
مُجھے دھوکہ دے کے سُلا، میاں تیری خیر ہو
اظہر فراغؔ
المرسل: فیصل خورشید

جواب دیں
تبصرہ کرنے سے پہلے آپ کا لاگ ان ہونا ضروری ہے۔