منگل • 6 اکتوبر 2026ء

✦ منتخب غزلیں

جون ایلیا ایک ہی مُژدہ صُبح لاتی ہے دُھوپ آنگن می…


جون ایلیا

ایک ہی مُژدہ صُبح لاتی ہے
دُھوپ آنگن میں‌ پھیل جاتی ہے

فرش پر کاغذ اُڑتے پِھرتے ہیں‌
میز پر گرد جَمتی جاتی ہے

سوچتا ہُوں، کہ اُس کی یاد آخر
اب کِسے رات بھر جگاتی ہے

سوگئے پیڑ، جاگ اُٹھی خوشبوُ
زندگی خواب کیوں‌ دِکھاتی ہے

آپ اپنے سے ہَم سُخن رہنا
ہمنَشِیں! سانس پُھول جاتی ہے

کیا سِتَم ہے کہ اب تِِری صُورت
غور کرنے پہ یاد آتی ہے

کون اِس گھر کی دیکھ بھال کرے
روز ایک چیز ٹوٹ جاتی ہے

جون ایلیا