پیر • 5 اکتوبر 2026ء

✦ منتخب غزلیں

جس طرح سوکھے ہوئے پھول کتابوں میں ملیں ۔ احمد فرا…


جس طرح سوکھے ہوئے پھول کتابوں میں ملیں
۔ احمد فراز
اب کے ہم بچھڑے تو شاید کبھی خوابوں میں ملیں
جس طرح سوکھے ہوئے پھول کتابوں میں ملیں
ڈھونڈ اجڑے ہوئے لوگوں میں وفا کے موتی
یہ خزانے تجھے ممکن ہے خرابوں میں ملیں
غمِ دنیا بھی غمِ یار میں شامل کر لو
نشہ بڑھتا ہے شرابیں جو شرابوں میں ملیں
تُو خدا ہے نہ مرا عشق فرشتوں جیسا
دونوں انساں ہیں تو کیوں اتنے حجابوں میں ملیں
آج ہم دار پہ کھینچے گئے جن باتوں پر
کیا عجب کل وہ زمانے کو نصابوں میں ملیں
اب نہ وہ میں ہُوں نہ تُو ہے نہ وہ ماضی ہے فراز
جیسے دو سائے تمنّا کے سرابوں میں ملیں
……..
ماجد صدیقی
شعر، آثارِ قدیمہ سے نصابوں میں ملیں
’’جس طرح سوکھے ہوئے پھول کتابوں میں ملیں‘‘
کیسے ممکن ہے کہ جیون کو جِلا دیتی ہوئی
مستیاں آپ کی آنکھوں کی، شرابوں میں ملیں
غیظ کے چاہے وہ ہوں، لطف و عنایات کے ہوں
نقش اس یار کے کیا کیا نہ سحابوں میں ملیں
جتنے چہرے بھی لکھے رہ گئے دل پر ماؔجد
منعکس روز نئے کِھلتے گلابوں میں ملیں

…….