جب کبھی چاند گھٹاؤں میں گِھرا رہتا ہے میں ترے کا…
جب کبھی چاند گھٹاؤں میں گِھرا رہتا ہے
میں ترے کاکُل و رُخسار میں کھو جاتا ہوں
جب ہواؤں میں ابھرتی ہے ابابیل کوئی
میں تری یاد میں بے چین سا ہو جاتا ہوں
جب کبھی آنچ ستاروں کی ستاتی ہے مجھے
تری یادوں کی خُنَک سیج پہ سو جاتا ہوں
جب کہیں دُور تصوّر میں نکل جانا ہو
میں تری زلف میں کچھ اشک پِرو جاتا ہوں
حسرتیں مُہر بہ لب دیکھ رہی ہیں مجھ کو
مرے احساس
آرزوؤں کی چُبھن دل میں گُھلی جاتی ہے
مری سوئی ہوئی راتوں کو جگانے کے لئے
ولولے نقش بہ دیوار ہوئے جاتے ہیں
مرے انجام کی تلخی میں سمانے کے لئے
زندگی آئینہ بردوش کھڑی ہے کب سے؟
مجھ کو تیری ہی کوئی شکل دکھانے کے لئے
وقت اُڑتا ہی چلا جاتا ہے جھونکا بن کر
اور میں تیرے خیالوں سے نکلتا ہی نہیں
کائنات ایک نئے حُسن کی ضَو مانگتی ہے
اور… More