جب وہ تنہا کبھی ہوا ہوگا سلطان سکون جب وہ تنہا کب…
جب وہ تنہا کبھی ہوا ہوگا
سلطان سکون
جب وہ تنہا کبھی ہوا ہوگا
یاد شاید مجھے کیا ہوگا
سوچتا ہوں مری طرح وہ بھی
میرے بارے میں سوچتا ہوگا
آہ بھر کے ہوں مطمئن ایسے
جیسے اس نے بھی سن لیا ہوگا
ایسے مڑ مڑ کے دیکھتا ہوں ادھر
جیسے اب تک نہ دیکھتا ہوگا
پھر سنا ہے وہ یاد کرتا ہے
آپ نے بھی تو کچھ سنا ہوگا
ہم بھی کیا کیا نہیں جلے لیکن
وہ بھی کیا کیا نہیں بجھا ہوگا
ہیں یہ خوش فہمیاں سکونؔ اپنی
اس نے سب کچھ بھلا دیا ہوگا
…..
سو اس کو چھوڑ دیا اس نے جب وفا نہیں کی
پلٹ کے ہم نے کوئی اس سے التجا نہیں کی
جگر فگار رہے قیس سے سوا لیکن
گئے نہ دشت کو اور چاک بھی قبا نہیں کی
خدا کو حاضر و ناظر سمجھ کے یہ کہہ دے
کہ ہم نے تجھ سے محبت میں انتہا نہیں کی
مگر تو پھر بھی گلہ مند ہے تو ہوتا رہے
کہ ہم نے تجھ سے وفا کی نہیں تو جا نہیں کی
ضرورتیں تو کئی طرح کی رہیں درپیش
امیر شہر کے در پر کبھی صدا نہیں کی
خفا کیا ہے خدا کو تو بارہا لیکن
خدا کا شکر خفا خلقت خدا نہیں کی
رہی ہے دل ہی میں روداد اپنے دکھ کی سکون
کہیں کہا نہیں کی اور کہیں سنا نہیں کی