جاوید شاہین کی پیدائش: امرتسر، 27 اکتوبر 1932 ج…
جاوید شاہین کی پیدائش:
امرتسر، 27 اکتوبر 1932
جاوید شاہین قیامِ پاکستان سے پندرہ برس قبل امرتسر میں پیدا ہوئے۔ تقسیمِ ہند کے بعد ان کا خاندان نقلِ وطن کر کے پاکستان کے ضلع سیالکوٹ میں آباد ہوگیا۔
گورنمنٹ کالج لاہور میں حصولِ تعلیم کے دوران نوجوان جاوید شاہین کو مظفر علی سید، حنیف رامے اور شہزاد احمد جیسے قلم کاروں اور دانش وروں کی صحبت نصیب ہوئی اور نظم و نثر کے بارے میں ان کے نوخیز ذہن کی خاصی تربیت ہوگئی۔
انھوں نے نظم کے میدان میں طبع آزمائی کی اور غزل کو محض ثانوی حیثیت دی۔ بعد میں وہ نثری نظم کے ایک اہم نمائندے اور علم بردار بن کر اُبھرے اور کار زارِ ادب میں کئی معرکوں کے مرکزی کردار بنے۔
سنہ ساٹھ کی دہائی میں ان کی شاعری کے تین مجموعے شائع ہوئے:
زخمِ مسلسل کی ہری شاخ
صبح سے ملاقات
محراب میں آنکھیں
بعد کی شاعری، اِن تین مجموعوں سمیت اُن کی کلیات میں شامل ہے جسے جاوید شاہین نے’نا تمام‘ کا معنی خیز عنوان دِیا۔
بائیس برس کی عمر میں ایک عجیب سودا جاوید شاہین کے سر میں سما گیا اور انھوں نے فِلمی ہیرو کے طور پر قسمت آزمائی کا فیصلہ کیا۔
بمبئی میں وہ ساحر لُدھیانوی کے مہمان بنے اور وہاں کیفی اعظمی، شاہد لطیف، یش چوپڑا اور گرودت سے اُن کی ملاقاتیں بھی ہوئیں جن کا احوال جاوید شاہین کی خود نوشت’میرے ماہ و سال‘ میں موجود ہے۔ لیکن انھیں فلم میں کام نہ مِل سکا کیونکہ خوبرو نوجوان کی زبان میں لُکنت تھی۔
……………………..
جاوید شاہین: حیات نامہ
پیدائش: امرتسر، 27 اکتوبر 1932
ابتدائی تعلیم: ضلع سیالکوٹ اور گوجرانوالہ
ثانوی اور اعلیٰ تعلیم: گورنمنٹ کالج لاہور
ملازمت: محکمہ بنیادی جمہوریت،
لاہور میونسپل کارپوریشن
ادبی کام: شاعری، سوانح عمری، ترجمے
وفات: اسلام آباد 23 اکتوبر 2008
تدفین: لاہور 24 اکتوبر 2008
………………………………….
اجنبی بود و باش کے قرب و جوار میں ملا
بچھڑا تو وہ مجھے کسی اور دیار میں ملا
……..
ڈوبنے والا تھا دن شام تھی ہونے والی
یوں لگا مری کوئی چیز تھی کھونے والی
……..
حساب دوستاں کرنے ہی سے معلوم یہ ہوگا
خسارے میں ہوں یا اب میں خسارے سے نکل آیا
……..
جمع کرتی ہے مجھے رات بہت مشکل سے
صبح کو گھر سے نکلتے ہی بکھرنے کے لیے
……..
جدا تھی بام سے دیوار در اکیلا تھا
مکیں تھے خود میں مگن اور گھر اکیلا تھا
……..
کہیں صدائے جرس ہے نہ گرد راہ سفر
ٹھہر گیا ہے کہاں قافلہ تمنا کا
……..
خطا کس کی ہے تم ہی وقت سے باہر رہے شاہیںؔ
تمہیں آواز دینے ایک لمحہ دور تک آیا
……..
خود بنا لیتا ہوں میں اپنی اداسی کا سبب
ڈھونڈ ہی لیتی ہے شاہیںؔ مجھ کو ویرانی مری
………
کس طرح بے موج اور خالی روانی سے ہوا
بے خبر دریا کہاں پر اپنے پانی سے ہوا
……..
کچھ زمانے کی روش نے سخت مجھ کو کر دیا
اور کچھ بے درد میں اس کو بھلانے سے ہوا
……
میں نے دیکھا ہے چمن سے رخصت گل کا سماں
سب سے پہلے رنگ مدھم ایک کونے سے ہوا
…..
مزہ تو جب ہے اداسی کی شام ہو شاہیںؔ
اور اس کے بیچ سے شام طرب نکل آئے
……
سمجھ رہا ہے زمانہ ریا کے پیچھے ہوں
میں ایک اور طرح سے خدا کے پیچھے ہوں
…..
تھوڑا سا کہیں جمع بھی رکھ درد کا پانی
موسم ہے کوئی خشک سا برسات سے آگے