جان کیٹس نے کہا تھا جب میں بلبل کی آواز سنتا ہوں تو مجھے مرنے کا خیال آتا ہے۔ مجھے یہ خیال آتا ہے شاید کیٹس نے چرواہے کی بانسری کی آواز نہیں سنی ہوگی وگرنہ انہیں زیادہ عمر جینے کا خیال ضرور آتا ہوتا اور ان کی عمر اتنی کم بھی نہ ہوتی۔ یہ بات ٹھیک ہے کہ کم عمر ہونے کے باوجود انہوں نے انتہائی گراں قدر ادبی سرمایہ چھوڑا لیکن اس بات سے کس کو انکار ہے کہ وہ زیادہ جیتا تو اور بھی اضافہ کرتا۔ بانسری کی آواز اتنی خالص ہوتی ہے کہ یہ ہمیں حیات نو کے لطف سے آشناء کراتی ہے بشرطیکہ سیدھا سادہ چرواہے کے دل میں تخلیق ہوجایے۔
کبھی کبھی میں سوچتا ہوں ہم ہی کیوں کر تہذیبوں کے سفر کا حصہ بنے اور اس مقام تک پہنچ آئے جہاں اب ہم کھڑے ہیں۔ ہمارے ناتواں کندھوں پر سماج نے طرح طرح کے بوجھ لاد رکھے ہیں جیسے ہم وہ گدھا ہیں جو چرواہا بار برداری کے لئے استعمال میں لاتا ہے۔ آپ لوگوں نے دیکھا ہوگا اس گدھے کے حقوق نہیں ہوتے، وہ کسی جشن میں شامل نہیں ہوتا انہیں کام کرنے ہوتے ہیں البتہ جب چرواہا کہیں تھک جائے تو وہ کہتا ہوتا ہے گدھا تھک گیا ہے آرام کرنا چاہئے۔ جب خود اسے پیاس لگ جائے تو وہ کہتا ہے گدھے کو پیاس لگ رہی ہے ضروری طور پر کسی چشمے کے کنارے بیٹھ کر پانی پینا چاہئے۔
جب ہم پیدا ہوتے ہیں تب ہی پہلی آواز ہمارے کان میں آذان کی دی جاتی ہے اس کا مطلب یہ ہوتا ہے ہمارے اوپر مذہبی زمہ داریوں کا بوجھ رکھا گیا، ہم سچے خدا کی تلاش خود سے نہیں کریں گے تاکہ خالص رہیں بلکہ ہمیں وہ سچ بتا دیا گیا جو ہمارے آباؤ اجداد کا ہے ہم اسی طرح عمل کریں گے اگر نہیں کریں گے تو ہمیں بچپن سے ہی سدھایا جائے گا۔ اسی طرح اپنے بچپن میں جب ہم دسترخوان پر بیٹھتے ہیں تو ہمیں آباؤ اجداد کے قصے سنائے جاتے ہیں ہمیں بار بار یہ یقین دہانی کرائی جاتی ہے کہ اچھا آدمی وہ ہے جسے سماج اچھا کہے، جو اپنے بچوں کے لئے کمائے بھی اور سماجی رسومات میں بھی بھرپور طریقے سے شریک ہوتا رہے۔
میں سوچتا ہوں ہم نے اچھے کپڑے پہن لئے، ہم سریے اور سیمنٹ کے بنے گھروں میں رہنے لگے ہم نے گھروں کے تزئین و آرائش کا ہنر بھی سیکھ لیا، پھر بھی ہم خوش نہیں ہوئے ہمارے دکھ کسی طرح کم نہیں ہوئے۔ چرواہے کے مقابلے میں ہم اس جانوں کی طرح ہوگئے ہیں جنہیں ڈومیسٹک بنایا گیا ہو وہ انسانوں کے ساتھ اپنی جبلت پر سمجھوتہ کر کے رہتا ہو۔ چرواہا وہ جانور ہے جو جنگل میں رہتا ہے اور فطری آزادی سے لطف اندوز ہو رہا ہے۔
چرواہوں کے پاس پھٹے پرانے کپڑے ہوتے ہیں اور وہ فیشن سے ماورا ہوتے ہیں ان کے گھروں میں اچھی کراکری نہیں ہوتی ان کے پاس ہماری طرح کچھ نہیں ہوتا لیکن ان کے کندھوں پر تہذیبی ارتقاء کا بوجھ نہیں ہوتا وہ ہمیشہ سے ایک سی حالت میں رہتے ہیں ان کے پاس جائداد کی صورت میں بھیڑ بکری، نقدی کی صورت میں اون، لطف کے لئے عورت اور بانسری ہوتی ہے اور سفر کے لئے گدھا ہوتا ہے۔ ان کی زندگی کتنی سادہ اور پرلطف ہوتی ہے۔ سادگی ہی تو مسرت کا نام ہے۔ ان کی بانسری کا وحشی نغمہ غنائیت کو مفہوم دیتا ہے۔ ان کی خوبصورت آوارگی آگہی کو معنی عطا کرتی ہے۔ ان کا رسم و رواج سے آزاد عشق دراصل آزادی کی مسرت کو نام دیتا ہے ۔
بشکریہ
https://www.facebook.com/groups/1876886402541884/permalink/3879691465594691
Comments
One response to “جان کیٹس نے کہا تھا جب میں بلبل کی آواز سنتا ہوں تو مجھے مرنے کا خیال آتا ہے۔ مج…”
nice