ثقیل اتنی کہاں گفتگو محبت کی نگاہِ ناز سے کُھلتا ہ…


ثقیل اتنی کہاں گفتگو محبت کی
نگاہِ ناز سے کُھلتا ہے معاملہ دل کا
….
بشریٰ خلیل کا یومِ پیدائش
سالگرہ کی بہت مبارک باد
20 July
کیا کہوں منزلوں کے جذبوں کی
گرد بیٹھی ہوئی ہے راہوں کی
فصلِ گُل تُو ذرا خبر رکھنا!
شاخچوں اور خزاں کے رازوں کی
ان کہی کا وبال کیا کہیے
جستجو ہر گھڑی ہے شعروں کی
میں نبرد آزما حقیقت سے
"آپ کرتے ہیں بات خوابوں کی”
میرے دشتِ جنوں کو لازم ہے
کوئی دھوکہ دہی سرابوں کی
کس محبت کا بیج بویا تھا ؟
فصل اگنے لگی ہے کانٹوں کی
عشق میں تیسرا بھی شامل ہے
نئی ترتیب ہے نصابوں کی
تُو نے اک عمر منتظر رکھا
بات تھی صرف چار حرفوں کی
ہر گماں کو یقین میں ڈھالا
ہائے کیا بات تیری باتوں کی
ایک ہی تیر سے شکار کئی
داد بنتی ہے تیری گھاتوں کی
چاند کو دیکھنے کی حسرت میں
صحبتیں جھیلتے ہیں تاروں کی
میری پہچان کھو گئی مجھ سے
ہے ضرورت مجھے حوالوں کی
…………
لیلیٰء جاں کی طلب اور ہے، محمل کے سوا
عشق آسان ہے بس اک ذرا مشکل کے سوا
تو نے کیا سوچ کے ہجرت کا کیا تھا آغاز
سب میسر ہے یہاں، راحتِ منزل کے سوا
کس طرح ہجر چلا دیتا ہے آری دل پر
یہ تڑپ کون بھلا جانے ہے بسمل کے سوا
لاکھ آئے تھے مرے ناز اٹھانے والے
مجھ کو بھایا نہیں کوئی مرے قاتل کے سوا
کیسے آباد ہوا جاتا ہے زندانِ وفا
"کوئی نغمہ ہی نہیں شورِ سلاسل کے سوا”
کس نے اک آن میں اس دل کا بھرم توڑ دیا؟
فیصلہ کوئی نہ کر پائے گا اس دل کے سوا
بزم آرائیاں ہر گام پہ ہیں چشم براہ
میرِ محفل نہ بنو گے مری محفل کے سوا
ناخدا تیری رقابت پہ عدو رشک کرے
ہر بھنور میں ہے اتارا مجھے ساحل کے سوا
……………….
Bushra Khalil