تُو نے یہ بھی کبھی سوچا کہ کہاں رہتا ہے
جو ترے شہر میں بے نام و نشاں رہتا ہے
اب بھی اِک عکس پسِ وہم و گماں ہے موجود
اب بھی اِک نقش سرِ آبِ رواں رہتا ہے
تیری اِک بات ہے رکھے ہوئے ہم کو ورنہ
آب و دانے کے لئے کون یہاں رہتا ہے
مطمئن یوں ہیں کہ اس خاک کی ویرانی میں
ایک ہم ہی تو نہیں سارا جہاں رہتا ہے
یُوں بھی ہوتا ہے کہ وہ پاس ہی ہوتا ہے کہیں
عمر بھر جس کے نہ ہونے کا گماں رہتا ہے
اکبر معصومؔ
از:-اور کہاں تک جانا ہے ص ۳۹/۴۰
اِنتِخاب
سفیدپوش


جواب دیں
تبصرہ کرنے سے پہلے آپ کا لاگ ان ہونا ضروری ہے۔