تم بادشاہ ِ وقت تھے،کٹوا دیے تھے ہاتھ اب قصر گر رہ…


تم بادشاہ ِ وقت تھے،کٹوا دیے تھے ہاتھ
اب قصر گر رہا ہے تو معمار کیا کرے
اقبال پیرزادہ ،ڈاکٹر
………..
جینا عزیز تر ہو تو پھر دار کیا کرے
بازار ہی نہ ہو تو خریدار کیا کرے
سایہ تو مانگتے ہیں مگر سوچتے نہیں
سورج ہو عین سر پہ تو دیوار کیا کرے
تم بادشاہ ِ وقت تھے،کٹوا دیے تھے ہاتھ
اب قصر گر رہا ہے تو معمار کیا کرے
بے آس بے مراد جیے کوئی کس طرح
اندھے کنویں میں دیدۂ بیدار کیا کرے
جی خوش نہ ہو تو لب پہ تبسّم کہاں سے آئے
گردن ہو خم تو طرّۂ دستار کیا کرے
………………