ترس رہا ہوں مگر تو نظر نہ آ مجھ کو …
ترس رہا ہوں مگر تو نظر نہ آ مجھ کو
کہ خود جدا ہے تو مجھ سے نہ کر جدا مجھ کو
وہ کپکپاتے ہوئے ہونٹ میرے شانے پر
وہ خواب سانپ کی مانند ڈس گیا مجھ کو
چٹخ اُٹھا ہوں سلگتی چٹان کی صورت
پکار اب تو مرے دیر آشنا مجھ کو!
تجھے تراش کے میں سخت مُنْفَعِل ہوں کہ لوگ
تجھے صنم تو سمجھنے لگے خدا مجھ کو
یہ اور بات کہ اکثر دَمَک اٹھا چہرہ
کبھی کبھی یہی شعلہ بجھا گیا مجھ کو
یہ قربتیں ہی تو وجہ فراق ٹھہری ہیں
بہت عزیز ہیں یارانِ بے وفا مجھ کو
ستم تو یہ ہے کہ ظالم سُخن شَناس نہیں
وہ ایک شخص کہ شاعِر بنا گیا مجھ کو
اسے فرازؔ اگر دکھ نہ تھا بچھڑنے کا
تو کیوں وہ دور تلک دیکھتا رہا مجھ کو
احمد فرازؔ
از:-درد آشوب ص ۱۶۶/۱۶۷
اِنتِخاب
سفیدپوش