تاروں سے یہ کہہ دو کوچ کریں خورشیدِ منور آتے ہیں …
تاروں سے یہ کہہ دو کوچ کریں خورشیدِ منور آتے ہیں
قوموں کے پیمبر آ تو چکے اب سب کے پیمبر ﷺ آتے ہیں
رستے میں جو پودے ملتے ہیں تعظیم کو جھک جھک پڑتے ہیں
کھل کھل کے گواہی دیتے ہیں مٹھی میں جو کنکر آتے ہیں
دربارِ نبی ﷺ جب گرم ہوا ‘ افلاکِ بریں سے آئی صدا
یہ قیصر و کسریٰ حاضر ہیں یہ طغرل و سنجر آتے ہیں
اے حامئ بیکس ! ختم رسل ﷺ ! یہ حال ہے تیری امت کا
دنیا میں کسی کی بھی ہو خطا الزام ہمیں پر آتے ہیں
(ماہر القادری)
المرسل :-: ابوالحسن علی ندوی