بے زمیں ہو کے ہیں آسماں عورتیں سردیوں سے ٹھٹھرتی ہ…
بے زمیں ہو کے ہیں آسماں عورتیں
سردیوں سے ٹھٹھرتی ہوئی راہ پر خستہ جاں عورتیں
جا رہی ہیں نہ جانے کہاں عورتیں؟
اپنے کاندھے پہ ڈالے ہوئے بار چوبانِ خشک و تپاں عورتیں
بے اماں عورتیں
برف جیسی زمیں اور لمبا سفر، گرمجوشی سے خالی ہر اک رہ گزر
ایسا لگتا ہے جیسے کہ ہوں واقعی
خود بھی سوکھی ہوئی لکڑیاں عورتیں
بے اماں عورتیں
سرد مہری فضاؤں میں چاروں طرف، ژالہ ژالہ بکف
حشر سامانیوں کا مسلسل ہدف
فرد ہو کر بھی ہیں خانداں عورتیں
بے اماں عورتیں
جا رہی ہیں نہ جانے کہاں عورتیں
زیست کی راہ پر رائگاں عورتیں، بے زباں عورتیں
جانے کس باغ کی، جانے کس پیڑ کی، جانے کس شاخ کی
ہیں یہ سوکھی ہوئی اور ٹوٹی ہوئی ٹہنیاں عورتیں
بے اماں عورتیں
بے زمیں ہو کے ہیں آسماں عورتیں
.
نعیم بازید پوری
…….
بشکریہ بحر سے خارج