بے تو از خواب عدم چشم کشودن نتواں
بے تو بودن نتواں، با تو نبودن نتواں
( یہ شعر پیام مشرق کی ایک غزل سے لیا گیا ہے۔)
اقبال کا یہ شعر عجیب کیفیتوں کا حامل ہے۔ بظاہر بڑا سادہ لیکن پیچیدہ ہے۔ اقبال نے اپنی شاعری میں سادگی اور پرکاری کے حسین امتزاج کی ایک حسین صورت ہمارے سامنے پیش کی ہے۔ پھر اس شعر کو، بلکہ شعر کے دوسرے مصرعے کو ایک لفظی معمہ بھی بنا دیا ہے۔ بے تو بودن اور با تو نبودن، کے الفاظ عجب الجھن پیدا کر رہے ہیں۔ پہلے ذرا سادہ ترجمہ سنئے۔ خدا سے خطاب ہے۔
اے خدا! تیرے بغیر ہم عدم سے وجود میں نہیں آ سکتے۔ تیرے بغیر ہمارا وجود نا ممکن ہے اور تیرے ہوتے ہوئے ہمارا وجود نہ ہو یہ بھی نا ممکن ہے۔
دیکھا دوسرے مصرعے کے الفاظ کیسا گورکھ دھندا نظر آتے ہیں لیکن یہ کوئی لفظی شعبدہ بازی نہیں جیسا کہ ہمیں بعض قدیم اساتذہ کے شعروں میں نظر آتی ہے۔ لفظی شعبدہ بازی خوبصورت ضرور ہوتی ہے لیکن بے کیف اور بے جان ہوتی ہے۔
اقبال نے اس لفظی ہیر پھیر میں بڑے پتے کی بات کہی ہے۔ اور اپنے ایک اہم نظریہ حیات کی وضاحت کر دی ہے۔
صوفیائے کرام کا نظریہ ہے کہ خدا نے انسان میں اپنی صفات الٰہیہ جبلی طور پر ودیعت کی ہیں انسان کی زندگی کا مقصد یہ ہے کہ وہ ان صفات الٰہیہ کو بروئے کار لائے اور ان کی تکمیل میں پیہم کوشاں رہے جوں جوں یہ صفات تکمیل پذیر ہوں گی انسان خدا کے قریب تر ہوتا چلا جائے گا۔
یہاں تک اقبال ان بزرگو ں کا ہمنوا ہے لیکن اس آخری مقام پر آ کر وہ ان سے الگ ہو جاتا ہے۔
صوفیائ، انسانی ارتقا کی آخری منزل کو فنافی اللہ کا مقام قرار دیتے ہیں۔ لیکن اقبال کا نظریہ اس کے برعکس ہے۔ اس کے نزدیک، انسان کا اخلاقی اور روحانی ارتقا برحق لیکن اس ارتقا میں انسان اپنی انا کو کہیں نہیں کھو دیتا۔ وہ اپنی خودی کو برقرار رکھتا ہے۔
چنانچہ شعر میں کہتا ہے۔
ٹھیک ہے کہ خدا ہمارا خالق ہے۔ اس کے بغیر ہم وجود میں نہیں آ سکتے ۔ یہ بھی درست ہے کہ اگر وہ نہ ہو تو ہم بھی نہ ہوں لیکن یہ بھی نا ممکن ہے کہ ہم اس کے ساتھ ہوں اور اپنا وجود کھو بیٹھیں، اس سے ملیں اور ہم نہ رہیں ایسا نہیں ہو سکتا۔
اس کے وجود کے ساتھ ہمارا وجود سلامت رہے گا۔
جب کائنات معرض وجود نہیں آئی تھی، خدا موجود تھا اگر کائنات نہ بنتی تو پھر بھی اس کا وجود ہوتا لیکن درمیان میں انسان خلق ہوا اس کے وجود نے اس کائنات کی ہیئت بدل دی، اور یہ نکتہ منکشف ہوا کہ یہ سب کچھ اسی ہستی کی خاطر تھا۔
انسان کی آمد سے کیا کیا ہنگامے گرم ہوئے لیکن انہی ہنگاموں ہی میں تو انسان کی شان مضمر ہے۔
مرزا غالب نے اسی نکتے کو اپنے شوخ انداز میں یوں بیان کیا۔
نہ تھا کچھ تو خدا تھا، کچھ نہ ہوتا تو خدا ہوتا
ڈبویا مجھ کو ہونے نے، نہ ہوتا میں تو کیا ہوتا

جواب دیں
تبصرہ کرنے سے پہلے آپ کا لاگ ان ہونا ضروری ہے۔