منگل • 6 اکتوبر 2026ء

✦ منتخب نظمیں

بے انجام – منصورہ احمد سنو! اس رات کی دھڑکن میں …

بے انجام – منصورہ احمد

سنو!
اس رات کی دھڑکن میں
کن منہ زور قدموں کی دھمک ہے؟
یہ دل کس جبر سے سہما ہوا ہے؟
زمانوں سے زمانوں تک بچھی اس رات میں
ہم ہاتھ آنکھوں پر لپیٹے
کیوں مسلسل چل رہے ہیں؟
زمیں اپنے سوا نیزے پہ اوندھے منہ گری ہے
ہمارا ہر قدم کتنے نشیبوں میں لڑھکتا ہے
یہ کیسی بے ابد سی ہُوک ہے
جو رات کے پس منظروں میں گونجتی ہے
کوئی گھٹ گھٹ کے جیسے بین کرتا ہو!
زمیں کی لرزشیں اب سانس کی گردش کا حصہ ہیں
درونِ ذات اندیشے دھڑکتے ہیں
نجانے اس گھڑی کتنی ہی آہن پوش سانسیں
جل بجھی ہوں گی
کسی کے ساتھ جڑنے کی تمنا میں
ہمیشہ سے کہیں بڑھ کے ادھورے ہوگئے ہوں گے

کبھی تم نے"خبرنامے" میں
لمبی میز کے چاروں طرف بیٹھے خدا دیکھے؟
کبھی ان کی نگاہوں میں جمی بیگانگی دیکھی؟
انھیں آسودگی یہ ہے
کہ ان کے فیصلوں سے
جن گھروں میں موت اترے گی
وہ ان کے گھر نہیں ہوں گے!

تمہیں معلوم ہے یہ سرد آنکھیں تو ہمارے مقبرے ہیں
ہم ان قبروں میں عمریں بھوگ دیتے ہیں
مگر اک پل بھی زندہ رہ نہیں پاتے
ادھر یہ میز کے چاروں طرف بیٹھے، فقط یہ سوچتے ہیں
کہ قبریں اور گہری کس طرح کھودیں
جو ذروں میں بچی کچھ زندگی
باقی گھروں میں رینگتی ہے
اُسے بھی چھین کر یہ کس طرح
اپنے گھروں میں قید کرڈالیں
یہ سورج باندھ سکتے ہیں تو سب کچھ باندھ سکتے ہیں
ہماری روشنی، صبحیں، ہوا سب ان کے قیدی ہیں
سویرے سے تہی یہ رات ہی آزاد پھرتی ہے

ہمیں کب تک نشیبوں میں لڑھکنا اور قبروں میں پنپنا ہے؟
چلو اک بار ہی چیخیں
کہ اس پر ہول سناٹے میں کوئی گونج تو اُبھرے
یہ ممکن ہے ہماری چیخ کی آواز
اس دیوار کی پرلی طرف جکڑے ہوئے سورج کو چھو جائے
مگر یہ کیسے ممکن ہے؟؟