بھوک چہروں پہ لیے چاند سے پیارے بچے بیچتے پھرتے ہی…
بھوک چہروں پہ لیے چاند سے پیارے بچے
بیچتے پھرتے ہیں گلیوں میں غبارے بچے
………
گرمی لگی تو خود سے الگ ہو کے سو گئے
سردی لگی تو خود کو دوبارہ پہن لیا
………
ہم تم میں کل دوری بھی ہو سکتی ہے
وجہ کوئی مجبوری بھی ہو سکتی ہے
غزل دیکھیے
ہو گیا چرخ ستم گر کا کلیجہ ٹھنڈا
مر گئے پیاس سے دریا کے کنارے بچے
………
جتنا ہنگامہ زیادہ ہوگا
آدمی اتنا ہی تنہا ہوگا
…….
کہیں انتہا کی ملامتیں کہیں پتھروں سے اٹی چھتیں
ترے شہر میں مرے بعد اب کوئی سر پھرا نہیں آئے گا
…….
خول چہروں پہ چڑھانے نہیں آتے ہم کو
گاؤں کے لوگ ہیں ہم شہر میں کم آتے ہیں
……..
میرے اندر کا پانچواں موسم
کس نے دیکھا ہے کس نے جانا ہے
……
رات کو روز ڈوب جاتا ہے
چاند کو تیرنا سکھانا ہے
…….
یہ دل جو مضطرب رہتا بہت ہے
کوئی اس دشت میں تڑپا بہت ہے